Waiting closes end barriers to the release”The Legend of Moula Jutt”

فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ جو گزشتہدو برسوں سے قانونی مسائل کا شکار تھی اب ان مشکلات سے نکل آئی ہے‘ فلم کے خلاف تمام قانونی کیسز واپس لے لیے گئے۔ فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی پروڈیوسر عمارہ حکمت نے گزشتہ روز ٹوئٹر پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اوریجنل فلم مولاجٹ کے پروڈیوسرکی جانب سے ان کی فلم کے خلاف تمام قانونی کیسز واپس لے لیے گئے ہیں اور وہ ان کیسز سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

 فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ اپنے اعلان کے بعد سے ہی مسلسل تنازعات کا شکار ہے۔ فلم میں فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی اورحمائمہ ملک جیسے سپر اسٹارز نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں یہی وجہ ہے کہ شائقین کو اس فلم کا بے چینی سے انتظار تھا۔ تاہم 1979 میں ریلیز ہوئی پاکستان کی تاریخ کی سپر ہٹ فلم مولا جٹ کے پروڈیوسراور باہو فلمز کارپوریشن کے سی ای او سرور بھٹی کی جانب سے دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے ہدایت کار بلال لاشاری اور پروڈیوسر عمارہ حکمت پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا دعوی دائر کیا گیا تھا۔ 

جس میں کہا گیا تھا کہ نئی فلم بنانے کے لیے ان کی رضامندی نہیں لی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فلم گزشتہ دو برسوں سے قانونی تنازعات کا شکار تھی ۔ ایک مقامی ویب سائٹ کے مطابق پروڈیوسر سرور بھٹی کا مقدمات واپس لینے کے حوالے سے کہنا ہے کہ انہوں نے تمام چیزوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ عمارہ حکمت اور بلال لاشاری میرے بچوں کی طرح ہیں۔ کسی نے انہیں گمراہ کیا تھا بہرحال تمام بچے غلطیاں کرتے ہیں لیکن اب میں نے ان تمام چیزوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ سرور بھٹی نے مزید کہا میں نے یہ سینما کی بحالی اور پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے کیا ہے۔ میں اب دی لیجنڈ آف مولاجٹ کی ریلیز میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔ عمارہ حکمت اوربلال لاشاری اس فلم کوعید الفطر پر یا جب وہ چاہیں ریلیز کرسکتے ہیں میں ان کی حمایت کروں گا۔

Automatic Translated By Google

The Legend of Moula Jet, which had been suffering from legal issues for the past few years, has now come out with these problems. All legal cases against the film have been withdrawn. Amra Hikmat, the producer of the film The Legend of Moula Jet, confirmed on Twitter yesterday that all legal cases against the film have been withdrawn by the producer of the original film Moulagat and he has withdrawn those cases. ۔

The Legend of Moula Jet has been in constant conflict since its announcement. Superstars such as Fawad Khan, Mahera Khan, Hamza Ali Abbasi and Hamama Malik have shown the essence of their acting in the film. However, in 1979, the producer and CEO of Bahu Films Corporation, the producer and CEO of Bahoo Films Corporation, a release of the history of Pakistan’s super hit film Mula Jet, claimed copyright infringement on Bilal Lashari and producer Amra Hikmat. Was filed.

It was said that his consent was not taken to make the new film. This is why the film has been the subject of legal controversy for the past two years. According to a local website, producer server Bhatti’s withdrawal case says he has left everything behind. Amara Wise and Bilal Lashari are like my children. Someone had led them astray. All children make mistakes, but now I have left all these things behind. Sarwar Bhatti further said that I have done this for the revival of cinema and for the Pakistani film industry. I will no longer be a hindrance to the release of The Legend of Moulage. Amira Wisdom and Bilal Lashari will support this film on a whim or they can release it whenever they want.

Saifullah Aslam

Owner & Founder of Sayf Jee Website

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker