Cricket

Players Can Fight Each Other Due To Depression in England Tour

دورہ انگلینڈ میں ڈپریشن کے باعث کھلاڑی آپس میں لڑ سکتے ہیں: انضمام الحق

چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے کرکٹرز کا ذہنی طور پر مضبوط ہونا بہت ضروری ہے:سابق کپتان

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اور سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ دورہ انگلینڈ میں کھلاڑی گراؤنڈ سے ہوٹل اور ہوٹل سے گراؤنڈ تک ہی محدود رہنے کے باعث ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں اور آپس میں لڑائی کا بھی خدشہ ہے۔ 50 سالہ سابق لیجنڈ بیٹسمین نے کہا کہ دورہ انگلینڈ میں ٹیم کو گراؤنڈ پر تو اتنے سخت چیلنج کا سامنا نہیں ہوگا کیوں کہ پاکستان نے انگلینڈ میں ہمیشہ اچھا کھیلا ہے، لیکن گراؤنڈ سے باہر چیلنج کا سامنا ضرور رہے گا اور اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے کرکٹرز کا ذہنی طور پر مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔
انضمام الحق نے کہا کہ پہلی بار ہورہا ہے کہ پلیئرز بالکل بھی کہیں آنا جانا نہیں کرسکیں گے، تین مہینے محدود رہیں گے، جتنی بھی سہولیات ہوں ہر کسی کا دل چاہتا ہے کہ دو تین چار روز بعد کسی نہ کسی سے ملاقات کریں اور باہر جائیں۔

1992ء سے2007ء تک 120 ٹیسٹ اور 378ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنیوالے انضمام الحق نے کہا کہ باہر جانا، لوگوں سے ملنا پلیئرز کے لیے ضروری ہوتا ہے کیوں کہ اس بغیر کھلاڑی ریلیکس نہیں ہوپائیں گےاور دباؤ میں رہیں گےجس کی وجہ سے ڈر ہے کہ کہیں انہیں ڈپریشن نہ ہوجائے اور جب سب پلیئرز طویل عرصہ تک ایک جگہ ہی محدود رہیں گے تو خدشہ ہوگا کہ کہیں وہ آپس میں لڑ نہ پڑیں۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں ٹیم منیجمنٹ کا ماحول اچھا رکھنا بہت ضروری ہے اور آپس کی ہم آہنگی کو یقینی بنانا بھی کافی ضروری ہوگا۔ پاک انگلینڈ سیریز پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بابر اعظم سیریز میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، شاہین شاہ آفریدی کا کردار بھی اہم ہوگا لیکن بیٹسمینوں کو زیادہ اہم کردار ادا کرنا ہوگا ، ان پر زیادہ ذمہ داری ہوں گی کیوں کہ انگلینڈ کی کنڈیشن میں بولرز کو مدد ملتی ہے، وہاں جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ بورڈ پر لمبا اسکور لگائیں، بابر اعظم کے علاوہ اظہر علی، عابد علی، امام الحق سب مل کر بڑا اسکور لگانے کی کوشش کریں تو جیت سکتے ہیں۔
انضمام الحق نے مزید کہا کہ گیند نہ چمکانے کی صورت میں مڈل آرڈر کو فائدہ ہوگا ، نئے بال کا سامنا کرنے والوں کو محتاط رہنا ہوگا۔ قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو مشورہ دیتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ میں 20 ہزار سے زائد رنز بنانے والے انضمام الحق نے کہا کہ انگلینڈ میں بیٹسمینوں کے لیے ضروری ہے کہ شروع میں وکٹ پر تحمل کا مظاہرہ کریں، 6 ،7 اوورز وکٹ پر رکیں اور غیر ضروری شاٹس نہ کھیلیں اور ایڈجسٹ ہونے کے بعد بھی فوکس نہ لوز کریں کیوں کہ انگلینڈ جیسی کنڈیشنز میں گیند ہر وقت ‘موو’ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پلیئرز 2016ء سے ہر سال انگلینڈ کا دورہ کررہے ہیں، وہاں کاؤنٹیز بھی کھیلی، کلب اور لیگ بھی کھیلی اس لیے کنڈیشنز سمجھنے میں انہیں مسئلہ نہیں ہوگا، امید ہے پاکستان کرکٹ ٹیم اس سیریز میں انگلینڈ کے خلاف اچھا پرفارم کریگی۔


Players can fight to each others

Lahore: Former chief selector and former captain of the national cricket team Inzamam-ul-Haq says that during the tour of England, players may suffer from depression due to being limited from ground to hotel and from hotel to ground and There is also the fear of fighting among themselves. The 50-year-old former legend batsman said that the team will not face such a tough challenge on the ground in the tour of England because Pakistan has always played well in England, but will definitely face the challenge off the ground and try to overcome this challenge. Cricketers need to be mentally strong to be.
Inzamam-ul-Haq said that it is happening for the first time that the players will not be able to come and go anywhere at all, they will be limited for three months, whatever facilities are available, everyone’s heart wants to meet someone after two, three or four days and go out. Go.

Inzamam-ul-Haq, who represented Pakistan in 120 Tests and 378 ODIs from 1992 to 2007, said it was important for players to go out and meet people because without it the players would not be able to relax and would be under pressure. They may not get depressed and when all the players are confined to one place for a long time, there is a risk that they may get into a fight.

The former captain said that in this situation, it is very important to maintain a good team management environment and also to ensure harmony. Talking further on Pak-England series, he said that Babar Azam can play an important role in the series, Shaheen Shah Afridi will also play an important role but batsmen will have to play a more important role, they will have more responsibility because England In order to win there, it is necessary to put a long score on the board. Apart from Babar Azam, Azhar Ali, Abid Ali, Imam-ul-Haq can all win if they try to score a big score together.
Inzamam-ul-Haq added that the middle order would benefit if the ball did not shine, and those facing new hair would have to be careful. Advising the national team’s batting line-up, Inzamam-ul-Haq, who has scored over 20,000 runs in international cricket, said it was important for batsmen in England to show restraint on the wicket in the beginning, stay on the wicket for 6, 7 overs and not. Don’t play the necessary shots and don’t lose focus even after adjusting because in conditions like England the ball is ‘moving’ all the time.
He said that Pakistani players have been visiting England every year since 2016. They also played counties, clubs and leagues there so they would not have any problem in understanding the conditions. He hoped that Pakistan cricket team would perform well against England in this series. Will do

News Source: Urdu Point

Tags

Saifullah Aslam

Owner & Founder of Sayf Jee Website

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close