Live News HD

Why are children not being infected with the Corona virus?

کورونا وائرس سے بچے زیادہ متاثر کیوں نہیں ہو رہے؟

یہ خبر دنیا میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی کہ چین میں ایک نوزائیدہ بچے میں پیدائش کے 30 گھنٹے بعد کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

اس وقت تک 30 ممالک میں یہ سب سے کم عمر بچہ ہے جس میں اس وبا کی تشخیص ہوئی ہے۔ ابھی تک کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 40 ہزار متاثر ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد چین کے شہریوں کی ہے۔

ان تمام مریضوں میں بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔

حال ہی میں شعبہ طب سے متعلق ایک امریکی جریدے میں اس وبا کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چین کے شہر ووہان کے جنائنتن ہسپتال میں مریضوں کا تجزیہ شامل ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق اس وبا سے متاثرین کی آدھی تعداد 40 سے 59 برس تک کی ہے۔ صرف دس فیصد تعداد ایسے افراد کی ہے جن کی عمر 39 سال سے کم بنتی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق بچوں میں اس وبا کی تشخیص بہت کم ہوئی ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟

اگرچہ اس حوالے سے مختلف آراء ہیں لیکن ماہرین کے پاس اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ہے کہ آخر بچوں میں ایسے واقعات کم کیوں سامنے آئے ہیں۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر این جونز نے، جو مختلف طرح کے وائرس سے متعلق شعبے سے منسلک ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ بچے یا تو اس انفیکشن سے بالکل بچ جاتے ہیں یا پھر وہ زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو معمولی نوعیت کا مرض لاحق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر انھیں ڈاکٹر تک لے جانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ ان میں بیماری کی وہ نشانیاں تک واضح نہیں ہو پاتی ہیں۔ اس طرح کے مقدمات جب ہسپتال تک نہیں پہنچتے تو ان کا اندراج بھی نہیں ہو پاتا۔

اس بات سے یونیورسٹی آف لندن کی پروفیسر نیتھائل میکڈرموٹ بھی متفق ہیں۔

ان کے خیال میں پانچ سال سے زائد اور بیس سال سے کم عمر کے بچوں میں ایسے وائرس کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود بچے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ ان میں مرض کی وہ شدت نہ ہو یا اس کی نشانی تک بھی واضح نہ ہو سکے۔

اسی طرح جب چین میں 2003 میں سارس وائرس نے تباہی مچائی تھی جس میں آٹھ ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور دس فیصد یعنی آٹھ سو کی موت واقع ہوئی تھی۔ ان میں بھی بچوں کی تعداد بہت کم تھی۔

کیا نئے سال کی چھٹیوں نے بچوں کو محفوط رکھا

میک ڈرموٹ کا خیال ہے بالغوں کے مقابلے بچے اس وائرس کی زد میں شاید اس لیے نہیں آئے کیونکہ جب یہ وائرس پھیلا اس وقت سکولوں کی چھٹیاں تھیں۔

چین کے تقریباً تمام قصبوں نے ان چھٹیوں کو فروری کے مہینے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اگر گھر میں کسی کو کرونا وائرس ہوتا ہے تو گھر کے بڑے بزرگ بچوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں دوسری جگہ بھیج سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بیماری زیادہ پھیلتی ہے تو صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے۔

کیا یہ وائرس بچوں سے زیادہ بڑوں کے لیے خطرناک ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ ہی بچوں میں اس وائرس کی تصدیق کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ بچے اس سے متاثر نہیں ہو رہے۔ ہو سکتا ہے کہ حکام بچوں سے زیادہ بالغوں میں کرونا وائرس کی تشخیص میں مصروف ہیں۔ یا پھر بچوں میں اس کی علامتیں بہت واضح نہیں ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن امپیریل کالج سے وابستہ کرسٹل ڈونلی کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں جو سارس وائرس پھیلا تھا اگر اس کی مثال لی جائے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ بیماری بچوں کو کو اتنی شدت سے متاثر نہیں کر رہی جتنی بالغوں کو۔

پہلے سے بیمار لوگوں کے لیے یہ وائرس خطرناک ہو سکتا ہے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ ہہلے سے ہی ذیابیطس، امراض قلب یا دیگر امراض کے شکار لوگوں کی قوت مدافعت اس وائرس کے سامنے جواب دے سکتی ہے۔

بڑی عمر کے لوگوں کو خراب صحت کے سبب نمونیہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ ووہان کے ہسپتال میں اس وائرس کا شکار آدھے سے زیادہ لوگ پہلے سے طبی مسائل کا شکار تھے۔

کیا بچوں سے وائرس نہیں پھیلتا

ایان جونز کے مطابق نرسری میں کام کرنے والے اچھی طرح جنتے ہیں کہ بچے بڑی آسانی سے وائرس کا شکار ہوتے ہیں اور دوسروں میں وائرس منتقل بھی کر سکتے ہیں اور کسی بھی وبا میں بچوں کی ہلاکت کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن کرنا وائرس میں ایسا نہیں ہوا۔

حالیہ وبا کے مزید مطالعہ کے بعد ہی تصویر واضح ہو سکے گی-

بچوں کے کرونا وائرس سے زیادہ متاثر نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بچوں کو سب سے علیحدہ رکھا گیا ہے، سکول بند ہیں اور والدین اپنے بچوں کو محفوظٌ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے یں لیکن جب بچے ایک بار پھر سکولوں میں واپس آئیں گے تو پوری یا صحیح صورتِ حال سامنے آئے گی۔


Automatic Translated By Google

The news spread like wildfire across the world that a newborn baby has been diagnosed with the Corona virus 30 hours after birth in China….

It is the youngest child ever diagnosed with the outbreak in 30 countries. So far, more than 1,000 people have been killed and 40,000 infected worldwide by the Corona virus, the majority of whom are Chinese citizens….

All these patients have very few children.

An investigative report on the outbreak has recently been published in an American journal on medicine, which involves the analysis of patients at the Janinathan Hospital in Wuhan, China.

According to the report, half of the victims of this epidemic are between 40 and 59 years old. Only ten percent of the population is under the age of 39.

According to this study, the diagnosis of the outbreak in children is very low. But why is that so?

Although there are different opinions in this regard, the experts do not have a clear answer to the question as to why such incidents have occurred in children.

Professor Anne Jones of the University of Reading, who is involved in a variety of virus-related fields, told the BBC that babies are either completely immune to the infection or are not much affected.

This means that children have a minor illness, which often does not require them to be taken to a doctor because they do not have clear signs of the disease. Such cases could not even be registered when they did not reach the hospital.

Did New Year’s Holidays keep kids safe?

McDermott believes that children, compared to adults, may not have been infected with the virus because it was a school holiday when the virus spread.

Almost all of China’s cities decided to keep the holidays until the month of February. If someone in the home has a coronary virus, the elderly at home can send the children away while keeping them safe.

He said that if the disease was more prevalent then the situation could change.

Is the virus dangerous for older children?

Medical experts say confirming the virus in some children does not mean that children are not infected. Authorities may be busy diagnosing the Corona virus in more adults than children. Or its symptoms are not very clear in children.

Crystal Donnelly, from Oxford University and London Imperial College, says if the example of the SARS virus spread in Hong Kong, it can be concluded that the disease is not affecting children as seriously. To adults.

Can the virus be dangerous for people who are already sick?

Experts believe that the power of people suffering from diabetes, cardiovascular disease or other diseases may be immune to this virus.

Older people are more likely to get pneumonia because of poor health.

It turns out that more than half of the people at Wuhan’s hospital were already suffering from medical problems.

Does the virus not spread to children?

According to Ian Jones, nursery workers are well aware that children are easily infected with the virus and can transmit the virus to others, and in any epidemic, the chance of killing children is high, but doing so in the virus Didn’t happen

One of the reasons children may not be infected with the Corona virus is that children are kept isolated, schools are closed and parents are doing everything possible to keep their children safe but once again, Returning to schools will bring the perfect situation.

Tanveer Ahmad

I'm a web desk author & covering national including international news and articles for SayfJee. Also, provide the sports updates regularly.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close