News

How is it possible to prevent corona virus in Pakistan?

پاکستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟

واشنگٹن — 

پاکستان میں حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ مئی کے مہینے میں عید کے تہوار سے پہلے لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران لوگوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا، جس کی وجہ سے کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں یکدم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تاہم، شوکت خانم کینسر میموریل اسپتال لاہور کے اینیستھیزیولوجسٹ ڈاکٹر احسن وقار خان نے بتایا کہ مریضوں کی تعداد کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے اس کے تجزیے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ ہم مریض سے کیا مراد لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو تعداد بتائی جارہی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا ہے۔

لیکن، ڈاکٹر احسن نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ان میں سے سبھی لوگ ہسپتال آئیں۔ یہ لوگ گھر پر رہ کر کچھ روز کے بعد بہتر ہونے لگتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی علامات بہتر نہیں ہوتیں اور وہ ہسپتال آتے ہیں اور یہاں بہتر ہونے کے بعد گھر چلے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے لوگوں کی بھی ایک تعداد ہے جو ہسپتال آتے ہیں اور یہاں ان کی حالت بہتر نہیں ہوتی اور وہ آئی سی یو میں پہنچ جاتے ہیں جہاں انہیں وینٹیلیٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ، بقول ان کے، اس وائرس کی انفیکشن سے مختلف مراحل میں نمٹنے کے ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر احسن وقار نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ پاکستان کے وسائل محدود ہیں۔لیکن کوشش یہ ہونی چاہئے کہ مریض ہمارے وسائل سے بڑھ نہ جائیں۔

ڈاکٹر اکبر خلیل پشاور میں خیبر میڈیکل کالج میں ڈینٹسٹری کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے وسائل کم سہی مگر عام لوگ اس وبا کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہیں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطلب لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ اب انہیں کوئی احتیاط کرنے کی ضرورت نہیں؛ جبکہ اگر لوگ ماسک پہننے کی ہی پابندی کرلیں تو بہت بچت ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر احسن وقار نے بتایا کہ اگرچہ کووڈ کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مگر ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ ہسپتالوں میں جگہ نہ رہے۔ تاہم، ڈاکٹر خلیل کا کہنا ہے کہ کے پی کے میں حالات ایسے ہیں کہ ہسپتالوں میں مزید لوگوں کو داخل کرنے کی گنجاٰئیش نہیں رہی۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی موجودگی کی خبروں کے بعد ابتدا ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان نے واضح کر دیا تھا کہ ملک کی ایک بڑی آبادی میں غربت کے باعث کسی مکمل لاک ڈاؤن پر عمل نہیں کیا جاسکتا، اس لئے بہتر ہو گا کہ لوگ اپنے طور پر سماجی فاصلے کے قوائد پر عمل کریں۔

انھوں نے کہا کہ گھر سے باہر نکلیں تو ماسک پہنیں اور باہر سے گھر آئیں تو اپنے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔ ڈاکٹر احسن وقار خان اور ڈاکٹر اکبر خلیل نے بھی اسی پر زور دیتے ہیں۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ ہمیں کرونا وائرس کے ساتھ جینا سیکھنا ہو گا۔ اس کی مثال ڈاکٹر اکبر خلیل اس طرح دیتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم بجلی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی تاروں کو نہیں چھوتے کہ ایسا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔


Translated in English

Washington –
Recent statistics in Pakistan show that people did not take precautionary measures during the easing of lockdown before the Eid festival in May, leading to a sharp rise in the number of people infected with the corona virus. I have come

However, Dr. Ahsan Waqar Khan, an anesthesiologist at the Shaukat Khanum Cancer Memorial Hospital in Lahore, said it needed to be analyzed before saying anything about the number of patients. “We have to see what we mean by patient,” he said. He said that the number being reported is those who have tested positive for the coronavirus.

But, Dr. Ahsan said, not all of them need to come to the hospital. These people start to get better after a few days at home. Then there are some people whose symptoms do not improve and they come to the hospital and go home after getting better here. In addition, there are a number of people who come to the hospital and their condition does not improve here and they go to the ICU where they need ventilators. Therefore, according to him, the infection of this virus needs to be dealt with at different stages.

Dr. Ahsan Waqar said that it is true that Pakistan’s resources are limited. But efforts should be made so that patients do not exceed our resources.

Dr. Akbar Khalil is Professor of Dentistry at Khyber Medical College, Peshawar. “Our country’s resources are scarce, but ordinary people are not serious about the epidemic,” he said. The easing of the lockdown means that people no longer need to take precautions. However, if people only wear masks, it can save a lot.

Dr. Ahsan Waqar said that although the number of KOD patients is increasing rapidly, it is not yet the turn of hospitals. However, Dr Khalil says the situation in KPK is such that there is no room for more people to be admitted to hospitals.

Earlier, Prime Minister Imran Khan had made it clear after the news of the presence of corona virus in Pakistan that a complete lockdown could not be implemented due to poverty in a large population of the country, so it would be better for people to Follow the rules of social distance.

He said that if you go out of the house, wear a mask and if you come home from outside, wash your hands thoroughly. Dr. Ahsan Waqar Khan and Dr. Akbar Khalil also emphasize this. “We have to learn to live with the corona virus,” he said. Dr. Akbar Khalil gives an example of this in such a way that it is as if we live with electricity. Do not touch the wires as this can be dangerous.

Saifullah Aslam

Owner & Founder of Sayf Jee Website

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker